SAHIB UL ASR WAZZAMAN | RIZWAN ZAIDI | MANQABAT IMAM ZAMANA A.S. 2020 صاحب العصر والزمانؑ
SAHIB UL ASR WAZZAMAN | RIZWAN ZAIDI | MANQABAT IMAM ZAMANA A.S. 2020 صاحب العصر والزمانؑ
Poet: Noor Ali Noor
Composed by: Rizwan Zaidi
Chorus by: Team Rizwan Zaidi
Audio Recorded At: One Ten Studio Karachi
Audio Engineer: Irfan Zaidi, Karachi
Video Shoot & Edit by One Ten Media
Released by: One Ten Production & AlSahlah Travels
Youtube | https://youtu.be/C-j0Rf6VEpY
www.rizwanzaidi.com
email: rizwan@rizwanzaidi.com
onetenproduction@gmail.com
#RIZWANZAIDI #MANQABAT #yamehdi
صاحبِ العصر و الزمانؑ
آئینہِ عکسِ ازلی ہے گُلِ نرجسؑ
توحید کے گلشن کی کلی ہے گُلِ نرجسؑ
غیبت میں ہے پَر نورِ جلی ہے گُلِ نرجسؑ
ولیوں کا ولی ہے کہ علیؑ ہے گُلِ نرجسؑ
ہے پھول یہ نرجسؑ کا تو زہراؑ کی کلی بھی
اِک وقت میں شبیرؑ بھی، احمدؐ بھی علیؑ بھی
اوصاف ہیں اِس کے صفتِ شبرؑ و شبیرؑ
پیکر میں محمدؐ کی طرح صاحبِ توقیر
ہے حیدرِ صفدرؑ کی طرح کاتبِ تقدیر
لاریب مصور کی ہے یہ آخری تصویر
اللہ نے خلقت کو عجب موڑ دیا ہے
تخلیق اِسے کر کے قلم توڑ دیا ہے
واللہ کہ اللہ کا اِک راز ہے قائمؑ
اللہ کے لہجے کا ہم آواز ہے قائمؑ
اعجازِ خدا، صاحبِ اعجاز ہے قائمؑ
اللہ کے نازوں کے لئے ناز ہے قائمؑ
توحید کے ہر راز سے آگاہ بنا ہے
پردے میں یہی پردہِ اللہ بنا ہے
عمرانؑ نے تھا احمدِ مختارؐ کو پالا
سرکار نے پھر حیدرِ کرارؑ کو پالا
کرارؑ نے حسنینؑ سے شہکار کو پالا
ہر دور میں سردار نے سردار کو پالا
اِک پیکرِ توحید میں خود ڈھال رہا ہے
مہدیؑ کو حجابوں میں خدا پال رہا ہے
اِس غیبتِ کبرا میں ہی عظمت بھی چھپی ہے
جو حق کی حقیقت وہ حقیقت بھی چھپی ہے
اللہ کے چہرے کی شباہت بھی چھپی ہے
وحدت بھی امامت بھی ولایت بھی چھپی ہے
ہو کیسے بیاں کتنے کمالات چھپے ہیں
اِس ایک میں ہی تیرہ حجابات چھپے ہیں
ہاں اِس کے اشارے پہ ہی تقدیر رُکی ہے
جو طور پہ چمکی تھی وہ تنویر رکی ہے
ساتھ اِس کے نوائے دلِ شبیرؑ رکی ہے
عباسِ علمدارؑ کی شمشیر رکی ہے
غیبت سے یہ جب نکلے گی پھر کس سے ٹلے گی
ہر دشمنِ زہراؑ پہ یہ شمشیر چلے گی
خود بن کے قضا آئے گی عباسؑ کی تلوار
خالق کا غضب ڈھائے گی عباسؑ کی تلوار
روکی نہ کہیں جائے گی عباسؑ کی تلوار
روحوں سے گزر جائے گی عباسؑ کی تلوار
نکلے گی اجل بن کے ہر اِک جوت سے آگے
یہ تیغ چلے گی ملک الموت سے آگے
تحریر قضا کو بھی بدلنے نہیں دے گی
روحوں کو بھی جسموں سے نکلنے نہیں دے گی
یہ دشمنِ قائم کو سنبھلنے نہیں دے گی
چل کر یہ کسی اور کی چلنے نہیں دے گی
کر دے گی جہاں پاک ہر اِک بانی ِ شر سے
خود موت بھی چھپ جائے گی تب موت کے ڈر سے
اُس روز ملے گی دلِ زہراؑ کو تسلی
قائم کی بھی پھیلے گی زمانوں میں تجلی
افلاک کو چھوڑیں گے سبھی عرش محلی
مہدیؑ کی سواری نظر آئے گی مجلی
حیدرؑ کی طرح لاشوں سے انصاف کرے گا
اِک وار میں سو جسموں کے سر صاف کرے گا
جب صاحبِ والعصر کا بن جائے گا لشکر
یاد آئے گا خیبر کبھی صفین کا منظر
جب جنگ میں اترے گا کہیں دلبرِ حیدرؑ
اے نور علیؔ قدموں میں بچھ جائیں گے خود سر
آ آ کے سبھی صاحبِ کردار ملیں گے
اُس فوج میں سارے ہی عزادار ملیں گے

![[ID: p9ObZ9Qy12M] Youtube Automatic](https://zikarehussain.com/wp-content/uploads/2021/02/id-p9obz9qy12m-youtube-automatic-60x60.jpg)
![[ID: YFaOcIGBk0U] Youtube Automatic](https://zikarehussain.com/wp-content/uploads/2021/02/id-yfaocigbk0u-youtube-automatic-60x60.jpg)